لچر گوئی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بیہودہ گوئی، فضول بات کرنا۔ "درد ہیں کہ اس مکدّر فضا میں اپنی نیک سیرتی، خوش فکری اور پاکیزہ خیالی کا چراغ روشن کیے ہیں، نہ تو ہجو، مزاح اور لچر گوئی سے کبھی ان کا دامن ملوث ہوا نہ قصیدہ گوئی سے۔"      ( ١٩٦٣ء، تحقیق و تنقید، ٢٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لچر' کے بعد فارسی مصدر 'گفتن' سے صیغہ امر 'گو' بطور لاحقہ فاعلی کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٣ء کو "تحقیق و تنقید" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیہودہ گوئی، فضول بات کرنا۔ "درد ہیں کہ اس مکدّر فضا میں اپنی نیک سیرتی، خوش فکری اور پاکیزہ خیالی کا چراغ روشن کیے ہیں، نہ تو ہجو، مزاح اور لچر گوئی سے کبھی ان کا دامن ملوث ہوا نہ قصیدہ گوئی سے۔"      ( ١٩٦٣ء، تحقیق و تنقید، ٢٨ )

جنس: مؤنث